5 جولائی 2026 - 20:50
پہلی قسط | یمن کی ناکہ بندی ٹوٹ گئی؛ انصاراللہ کی تزویراتی فتح / صنعاء کی فضاؤں سے تہران کے قلب تک، ایک نئے دور کا آغاز

انصاراللہ یمن نے ایک جرأتمندانہ اور انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی لڑاکا طیاروں کو مار بھگایا اور یمن کی 11 سالہ فضائی ناکہ بندی کو توڑ دیا اور صنعاء-تہران فضائی روٹ بحال کرکے مقاومت کے لئے ایک اہم فتح حاصل کر لی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جمعہ 3 جولائی 2026 کو، یمن کی مسلح افواج نے اپنے فضائی دفاع کے ذریعے سعودی لڑاکا طیاروں کو پیچھے دھکیل دیا جو ایرانی سول طیارے کو صنعاء ایئرپورٹ پر اترنے سے روکنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس ایرانی طیارے پر 200 سے زیادہ یمنی شہری سوار تھے جن میں زخمی، مریض اور سرکاری وفود شامل تھے، اور اس میں انصاراللہ یمن کا ایک سرکاری وفد بھی سوار تھا جو انقلاب اسلامی کے رہبر شہید کی تشییع کے مراسمات میں شرکت کے لئے ایران آ رہا تھا۔ اس واقعے کو فوری طور پر انصاراللہ اور یمنی عوام کے لئے ایک اہم اور ٹھوس فتح قرار دیا گیا ہے۔

یہاں تک کہ مغربی اور اسرائیلی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے بھی اسے سعودی ناکہ بندی کی قابلِ ذکر شکست اور فضائی ناکہ بندی کے حلقے کو توڑنے میں انصاراللہ کی قابلِ ذکر کامیابی قرار دیا۔

یہ کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب یمن کو تقریباً 11 سال سے جدید تاریخ کی شدید ترین فضائی، بحری اور زمینی ناکہ بندی کا سامنا ہے۔

مارچ 2015 میں نام نہاد آپریشن "طوفان قاطع" کے آغاز سے، سعودی اتحاد نے صنعاء ہوائی اڈے کو عملی طور پر بند کر دیا، اہم بندرگاہوں کو محدود کر دیا اور امداد اور تجارت کے بہاؤ کو کنٹرول کر دیا؛ یہ ناکہ بندی صرف ایک فوجی اقدام نہیں تھی بلکہ شہری آبادی پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا ایک ذریعہ تھی، جس کے نتیجے میں ایک بڑے انسانی بحران نے جنم لیا۔ اس طویل دباؤ کے باوجود، انصاراللہ نے نہ صرف مزاحمت کی بلکہ مقامی دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دے کر اب اپنی فضائی حدود کی حفاظت کرنے اور ریاض کی مخالفت کے باوجود بین الاقوامی پروازوں کو حقیقت بنانے کے قابل ہے۔

تاریخی لمحہ اور انصار اللہ یمن کی علامتی اہمیت

گیارہ سال کی رکاوٹوں کے بعد صنعاء میں ایرانی طیارے کی کامیاب لینڈنگ ایک سادہ پرواز سے بڑھ کر تھی۔ یہ واقعہ ناکہ بندی کی دیوار کے ٹوٹ جانے کی علامت اور اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ انصاراللہ کی تسدید (ڈیٹرنس) اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ سعودی لڑاکا طیارے بھی اسے روک نہیں سکتے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے اس کامیابی پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ سعودی-امریکی ناکہ بندی مزید جاری نہیں رہ سکتی اور یمنی افواج اسے ختم کرنے کے لئے ہر جائز اقدام کے لئے تیار ہیں۔

صنعاء-تہران پروازوں کا تسلسل اور مریضوں اور زخمیوں کی منتقلی نے ریاض کی ناکہ بندی کے اعتبار کو براہ راست نقصان دھچکا لگایا۔ تجزیہ کاروں نے حتیٰ کہ مغربی اور اسرائیلی میڈیا میں بھی، اس واقعے کو یمنیوں کے لئے ایک اہم فتح قرار دیا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ انصاراللہ نے فوجی، معاشی اور سیاسی دباؤ کے باوجود، پہل کو اپنے ہاتھ میں لینے اور اپنے داؤں کو مضبوط کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

یہ کامیابی اس وقت ہوئی جب سعودی عرب جنگ کے بھاری اخراجات اٹھانے اور یمن کے جنوب میں حالیہ جھڑپوں کے بعد، کمزور پوزیشن میں ہے۔ سعودی لڑاکا طیاروں کے براہِ راست جھڑپ کے بغیر پیچھے ہٹنے سے یمن کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافے اور طاقت کے حقیقی توازن کے انصاراللہ کے حق میں، تبدیل ہونے کو عیاں ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

پہلی قسط | یمن کی ناکہ بندی ٹوٹ گئی؛ انصاراللہ کی تزویراتی فتح / صنعاء کی فضاؤں سے تہران کے قلب تک، ایک نئے دور کا آغاز

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha